Department of Arabic

HINDUSTAN MEIN ARABI-ZABAN-O-ADAB KA FAROOGH AUR ASR-E-HAZIR MEIN US KI AHMWIYAT

Date :

10-Mar-2015

Resource Person :

Prof. Shabbir Ahmad
Nadvi,
Professor & Head, Department of Arabic (R), the University of Lucknow

Summary:

پروفیسر موصوف نے تاریخی حقائق اور موجودہ مشاہدات کے تناظر میں تفصیل سے روشنی ڈالتے ہویےانہوں نے کہا کہ زبان اخوت و محبت ، پیغام و پیام ساتھ ہی آپسی تعارف کے لئے بہت ہی اہم ذریعہ ہے۔اس کے لئے حسین گفتگو ، اخلاقی زیورکے ساتھ اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ جس کی وجہ سے تمام زبانیں اہمیت کی حامل ہیں۔ تاہم تمام زبانوں میں عربی زبان و ادب کو اپنی فصاحت و بلاغت، معانی کا جہاں آباد کرنے کے ساتھ ایجاز و اختصار کے لئے بہت ہی ممتاز و نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ عربی زبان کا ہی کمال ہے کہ اس کے موزوں الفاظ انسانی اعضاءکے تمام پہلووں کے اثرات کو نہایت ہی بلیغ انداز میں بھی ادا کر سکتے ہیں۔ پروفیسر موصوف نے تاریخی حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہندوستان میں عربی زبان مذہبی حیثیت سے نہیں بلکہ تاجروں کی زبان کی حیثیت سے آئی ۔ دوسری صدی عہد بنو امیہ میں عرب ہندوستانیوں سے ملے اور تیسرے دور میں جو کہ محمود غزنوی کا دور ہے اس میں عربی زبان کو مزید پھلنے پھولنے کے مواقع ملے۔ اس طرح یہ سلسلہ دراز ہوکر مغل عہدتک پہنچا جہاں پچھلے ادوار کے مقابلے میں عربی زبان کی حیثیت ہندوستان میں کچھ زیادہ ہی مستحکم ہوءیں اور”منہاج السالکین”جیسی کتابیں منظر عام پر آئیں۔ حتی کہ اسلام سے سیکڑوں سال قبل مہابھارت کے دور میں بھی یہ زبان پائی جاتی تھی۔ کوروں اور پانڈؤں کے بیچ ہونے والی لڑائی کے دوران عربی زبان کا استعمال ہوا تھا۔ جیسا کہ سوامی دیانند سرسوتی نے اپنی کتاب “ستیارتھ پرکاش” میں لکھا ہے۔ اس سے قبل کا اگر جائزہ لیا جائے تو حضرت آدمؑ کی زبان بھی عربی تھی جو کہ سراندیپ (سری لنکا) قدیم ہندوستان کے ایک خطہ میں جنت سے اتارے گئے اس لئے عربی زبان کی بنیاد یہیں سے پڑتی ہے۔ جدید دور میں یونیورسٹیوں نے اس کے فروغ میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے جس پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔ بالخصوص سماجیات ، اقتصادیات، سیاسیات کے ساتھ صحافت کے میدان میں بھی اس زبان کو بہت ہی زیادہ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی حیثیت مزیدمستحکم ہو۔


PRESENT SOCIO, POLITICAL & ECONOMIC CONDITIONS OF MUSLIM IN KERALA

Date :

25-Feb-2015

Resource Person :

Mr. V. Parbhakaram
Shamsuddin,
freelance journalist and social activist from Cochin, Kerala

Summary:

نو مسلم اسکالر وی پی شمس الدین نے اپنے خطبہ میں خاص طور پر کیرلا میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں ان کی تعلیمی ، اقتصادی حالات کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ وہاں 27فیصد مسلمان ہیں جن کی تعلیمی اوراقتصادی حالت بہت ہی اچھی ہے۔ تعلیمی میدان میں مسلمانوں کے تقریباً 100اسکول ، کالج ، انجینئرنگ کالج ہیں اسی طرح میڈیا پر بھی خاصا کنٹرول ہے ۔ جس میں پرنٹ میڈیا کے طور پر 6 روزنامہ اور 100ہفت روزہ اخبار ہیں۔ اسی طرح الیکٹرانک میڈیامیں 2چینل بھی کام کررہے ہیں جن میں جماعت اسلامی کے چینل کا رول کافی اہمیت رکھتا ہے۔ ان سب کے ساتھ ہی ساتھ قابل مسرت بات یہ ہے کہ تعلیم نسواں کو لے کر کافی بیداری پائی جاتی ہے اور ان کا تناسب بہت اچھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شادی میں لڑکیوں کے انتخاب میں جہیز کے ساتھ ساتھ تعلیم کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔تاہم شادی کے بعد پیشتر لڑکیوں کاتعلیمی سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔ اخیر میں موصوف اسکالر نے وہاں پر متحرک اور سرگرم شدت پسند تنظیمیں آر ایس ایس اور بجرنگ دل وغیرہ کی سرگرمیوں اور ان کے منصوبوں کی تکمیل میں ان کے بلند عزائم کا بھی تذکرہ کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان سب کے باوجود وہاں کے مسلمان اسکالر اور نوجوانوں کے عزائم بہت ہی بلند ہیں ۔

A
HISTORY OF DALIT RELIGIOUS AUTONOMY: THE LAL BEGI TRADITION IN COLONIAL INDIA

Date :

13-Jan-2015

Resource Person :

Dr. Joel Lee, South Asian Languages and Cultures, Columbia University, New York, USA

Summary:

Dr. Joel Lee presented evidence that before the 1920s, the Lal Begis of north India saw themselves as a religious community separate from Hindus, Muslims, and Sikhs. He also noted that ordinary Hindus and Muslims of that period understood the Lal Begis to be a separate community. This began to change, Dr. Lee noted, with attempts by the Arya Samaj to bring this Dalit community into the Hindu fold

.

INEQUALITY AND CITIZEN PROTEST

Date :

11-Dec-2014

Resource Person :

Ms Sutanuka Roy, London School of Economics, London, United Kingdom (U.K.)

Summary:

Ms Sutanuka Roy had reached here from London School of Economics, London. Research on inequality and political protest has been inconclusive and contradictory. Her research takes a step forward to address the indeterminacy in the linkage between inequality and political conflict. She studies a particular form of conflict: citizen protest. In an environment where no group that comes to power can commit to any redistributive policies, political protest is assumed to be the only tool that is available to the citizen to protest against the government. Her paper asks whether government can avoid citizen protest by spending on public goods. Her paper finds that countries that spend a lot on public goods will have poorer citizen participating in protest and countries that have a small welfare budget will have relatively rich citizen participating in protest. Furthermore, inequality of income in protest matters only when intensity of conflict between the government and the citizen is low.

TECHNIQUE OF TRANSLATION FROM ARABIC TO URDU AND VICE-VERSA

Date :

19-Nov-2014

Resource Person :

Dr. Shams Kamal
Anjum,
Associate Professor and Head Department of Arabic, Baba Ghulam Shah Badshah University, Rajuri, Jammu and Khashmir.

Summary:

ڈاکٹر شمس کمال انجم نے بتایا کہ ترجمہ کیسے کیا جائے اور اس میں کون سی چیزیں ہمارے لئے مددگار ہو سکتی ہیں اس پر روشنی ڈالی۔ طلباءکو تلقین کیا کہ وہ ترجمہ میں سب سے زیادہ مشق کریں اور اپنے روز مرہ کی چیزوں پر لکھنے کی کوشش کریں جس سے ان میں لکھنے کی عادت پیدا ہوگی۔طلباءزیادہ سے زیادہ الفاظ یاد کریں ، دوران ترجمہ مفہوم ، استعارات و کنایات اور مترادفات کاخیال رکھیں۔ مسلسل مشق سے ان کے اندر مہارت و صلاحیت خود بخود پیدا ہوتی جائے گی۔ ترجمہ کے دوران طالب علم کو اس بات کا خیال بھی رکھنا چاہئے کہ جس زبان میں ترجمہ کر رہا ہے اس کو اس زبان کے کلچر و تہذیب و ثقافت و جغرافیائی حالات سے بھی واقفیت ہونی چاہئے۔

no images were found

ARABIC JOB IN MARKET

Date :

17-Oct-2014

Resource Person :

Mohd Zakir Azami Nadvi, K.A.CARE, Riyadh, KSA

Summary:

محمد ذاکر ندوی صاحب نے دوران خطاب طلباءکو بتایاکہ صرف عربی یا کوئی ایک زبان جاننے سے کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا ہے ،بلکہ اس کو عربی کے ساتھ انگلش یا کوئی دوسری زبان جاننا بھی ضروری ہے اور اس ان زبانوں میں مہارت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ تبھی کوئی شخص کامیاب ہوسکتا ہے۔ شیخ نے مدارس کے طلباءکی تعریف کرتے ہوئے کہا ان کے اندر عزت نفس کی پاسداری ، اساتذہ کی تعظیم اور تکریم ،پڑھائی میں محنت و لگن اور کلاس کی حاضری میں تسلسل خاص امتیاز ہوتا ہے۔ جس سے وہ طلباءاپنے اندرمہارت پیدا کرنے میں زیادہ دشواری نہیں محسوس کرتے ہیں۔مدارس میں کچھ خامیاں اور کمیاں ضرور ہیں جن کی وجہ سے طلباءاحساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور وہ طلباءیونیورسٹی میں آنے کے بعد اپنے آپ کو دوسرے طلباءسے ممتاز کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ اس میں اکثر کامیاب بھی ہوتے ہیں۔

Gallery
Events